نئی دلی میں آل انڈیا کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں بابری مسجد گرانے والے عناصر کو معاف نہیں کیا گیا ۔ یہ ایک شرم ناک اور مجرمانہ فعل تھا جس میں ملوث عناصر کو انجام تک پہنچایا جائیگا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کی حکومت مذہب کا غلط استعمال کرکے جذبات کو بھڑکانے کی کوششیں طاقت کے زور پر روکے گی ۔ کشمیر کی صورت حال پر سونیا گاندھی نے کہا کہ کشمیر میں حالیہ مہینوں کے دوران ہونیوالے واقعات بہت دردناک ہیں ۔ وادی کی صورت حال بامعنی سیاسی مذاکرات سے بہتر بنائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے کشمیر پر ثالثوں کی تعیناتی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں نئی صورت حال کا سامنا ہے اور تمام گروپوں سے مذاکرات کی ضرورت ہے، اسی لئے حکومت نے ثالثوں کا تقرر کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110